دس اکتوبر 2026 کی صبح جب ماسکو کی فضائیں سیاسی تنا اور سائبر جنگوں کی دھول سے اٹی ہوئی تھیں تو ریڈ اسکوائر کے مرکز میں واقع سرخ اینٹوں والے اسٹیٹ ہسٹوریکل میوزیم کے اندر ایک بالکل مختلف دنیا آباد تھی۔ یہاں ایک ایسی نمائش جاری تھی جو کسی ملک کی سرحدوں کی نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی تاریخ بیان کر رہی تھی۔ روسی ناول نگار میخائل بلگاکوف کے شاہکار ناول دی ماسٹر اینڈ مارگریٹا کے فلسفے پر مبنی اس نمائش کا عنوان تھا۔لوگ عام لوگوں جیسے ہی ہیں، انہیں دولت پسند ہے۔ بلگاکوف نے لگ بھگ ایک صدی پہلے اپنے ناول میں لکھا تھا جب شیطان ماسکو کے ایک تھیٹر میں نمودار ہوا اور اس نے فضا میں پیسوں کی بارش کی تو نظریات کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے انسان ایک دوسرے کو کچل کر ان نوٹوں پر جھپٹ پڑے۔ شیطان نے مسکرا کر کہا تھا کہ یہ بدلے نہیں ہیں، بس انہیں پیسے سے محبت ہے۔ ماسکو کا یہ میوزیم اسی فقرے کو تاریخی نوادرات کے آئینے میں سچ ثابت کر رہا تھا۔نمائش میں دو متوازی ادوار کے نایاب سکے اور کرنسی نوٹ آمنے سامنے رکھے گئے تھے۔ ایک طرف پہلی صدی عیسوی کے یروشلم کے وہ رومی چاندی کے سکے تھے جو ضمیر کی خرید و فروخت کا سب سے پرانا اور تاریخی استعارہ تھے۔ دوسری طرف 1920 اور 1930 کی دہائی کے سوویت یونین کے ابتدائی چروونٹس نوٹ تھے۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا کی سب سے بڑی اشتراکی ریاست یہ دعوی کر رہی تھی کہ وہ ایک ایسا نیا انسان پیدا کرے گی جس کا دل پیسے کے لالچ سے پاک ہوگا مگر تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتیں بدل گئیں، عقیدے اور حالات بدل دیے گئے، معاشی نظام الٹ دیے گئے لیکن انسان کے اندر چھپی مادہ پرستی کی وہ ابدی جبلت ٹس سے مس نہ ہوئی۔یہ نمائش صرف ماسکو کی کہانی نہیں ہے، یہ آج کے ہر اس شہر اور ہر اس معاشرے کی کہانی ہے جہاں انسان پیسے کیلئے رشتوں، اخلاقیات اور سچائی کا سودا کر لیتا ہے۔ 2026 کے ٹیکنالوجی اور سائنسی دور میں جی رہے ہیں، جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بدولت مشینوں کو انسانوں کی طرح سوچنا سکھا دیا ہے اور خلا تک کو تسخیر کر لیا ہے لیکن جب بات دل کے جھکا اور معاشی ہوس کی آتی ہے تو آج کا انسان بھی پہلی صدی کے انسان جتنا ہی مجبور دکھائی دیتا ہے۔ ماسکو کے میوزیم کے شوکیسز میں بند وہ بے جان سکے آج کے زندہ انسانوں سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کہ نظاموں کے بدلنے سے اگر انسان نہیں بدلتا تو پھر نجات کا راستہ کیا ہے؟ شاید نجات کا راستہ نظام بدلنے میں نہیں بلکہ اپنے اندر کے اخلاقی انتخاب کو بدلنے میں ہے ورنہ تاریخ کے ہر دور میں انسان اسی تھیٹر کا تماشائی رہے گا جہاں شیطان نوٹوں کی بارش کرتا ہے اور انسان اپنے ضمیر کا سودا کر کے ان پر جھپٹ پڑتا ہے۔یہ نمائش صرف ایک فکشن یا کہانی نہیں بلکہ اس کے مصنف میخائل بلگاکوف کی زندگی کا نوحہ بھی ہے۔ بلگاکوف نے جب یہ ناول لکھا تو وہ سوویت یونین کی سخت سنسرشپ اور شدید معاشی تنگ دستی کا شکار تھے۔ انہوں نے غربت کی چکی میں پستے ہوئے اور اپنے ضمیر کا سودا نہ کرنے کی پاداش میں یہ شاہکار تخلیق کیا۔ میوزیم کے ایک گوشے میں پڑے مصنف کے خطوط گواہ ہیں کہ نظریات کے علمبرداروں نے کیسے ایک سچے تخلیق کار کو پائی پائی کا محتاج کیا مگر اس نے اپنے قلم کی نیلامی قبول نہ کی۔میوزیم کے شوکیس میں صرف سکے نہیں بلکہ سوویت دور کے ٹارگسین یعنی خصوصی معاشی کوپن بھی پڑے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب اسٹالن کے روس میں قحط تھا۔ حکومت نے عام دکانوں پر راشن بند کر دیا تھا لیکن ٹارگسین نامی خصوصی دکانوں پر بہترین کھانا اور کپڑے دستیاب تھے مگر شرط یہ تھی کہ آپ ادائیگی صرف سونے، چاندی یا غیر ملکی کرنسی میں کریں گے۔یہ اشتراکیت کا وہ تاریخی تضاد تھا جہاں بھوکے شہریوں نے روٹی کے ایک ٹکڑے کیلئے اپنے خاندانی زیورات اور سونا حکومت کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔ شیطان کو ماسکو آنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، نظام خود انسان کی مجبوری کا سودا کر رہا تھا۔ماسکو کے اس میوزیم سے نکل کر اگر اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو منظر مختلف نہیں دکھائی دیتا۔ آج وسیب کے گلی کوچوں سے لیکر اقتدار کے ایوانوں تک ضمیروں کی بولیاں لگنے کا جو بازار گرم ہے، وہ اسی ابدی ہوس کا تسلسل ہے۔ جب ایک عام کلرک چند روپوں کیلئے غریب کی فائل دبا دیتا ہے، جب لالچ کی بنیاد پر رشتے ناطے توڑے جاتے ہیں اور جب سیاست کے بازار میں وفاداریاں خریدی اور بیچی جاتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے بلگاکوف کے شیطان کا تھیٹر ماسکو سے منتقل ہو کر ہمارے اپنے شہروں میں سج چکا ہے۔ اسی فضا میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہر چیز کی ایک قیمت مقرر کر دی گئی ہے ۔حیرت کی بات ہے کہ آج 2026 میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بدولت مشینوں کو انسانوں کی طرح سوچنا سکھا رہے ہیں لیکن خود انسان کی اپنی سوچ صدیوں پرانے لالچ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ سمارٹ فون اور ڈیجیٹل والٹس تو بنا لیے لیکن دل کو مادہ پرستی سے سمارٹ نہ کر سکے۔ پیسہ اب کاغذ اور سکے کی شکل سے نکل کر ڈیجیٹل کوڈز اور اسکرین پر چمکتے ہوئے ہندسوں میں بدل چکا ہے مگر ضمیر کو مسخ کرنے کی اس کی طاقت میں ایک فیصد بھی کمی نہیں آئی۔ ماضی میں شیطان کو انسان کا ضمیر خریدنے کیلئے فضا میں مادی نوٹ یا چاندی کے سکے پھینکنے پڑتے تھے لیکن اب شیطان بھی ڈیجیٹل ہو چکا ہے۔اب ضمیر کی قیمت بٹ کوائن، کرپٹو کرنسی یا اسکرین پر چمکتے ہوئے محض چند ہندسوں کی شکل میں منتقل ہوتی ہے۔ اب انسان کو لائن میں لگ کر نوٹ اٹھانے کی زحمت بھی نہیں کرنی پڑتی، صرف ایک کلک پر سودا ہو جاتا ہے۔تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو نمائش میں موجود پہلی صدی عیسوی کے رومی سکوں کا تعلق براہ راست رومی گورنر پلاطوس کے اس تاریخی خوف اور مصلحت سے تھا جہاں اس نے اپنا اقتدار اور پوزیشن بچانے کیلئے سچائی کو سولی پر چڑھا دیا۔ آج کا انسان بھی روزانہ اقتدار، نوکری یا ذاتی فائدے کی خاطر سچائی کا گلا گھونٹ کر پلاطوس کا کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ ضمیر کی آواز سننے کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے اور مادہ پرستی ہمیشہ سستا اور آسان راستہ دکھاتی ہے ۔ جس طرح اسٹالن کے دور میں عام انسان بھوکا تھا اور اشرافیہ کیلئے ٹارگسین جیسی خصوصی دکانیں تھیں، بالکل اسی طرح آج 2026 میں بھی دنیا دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف خط غربت سے نیچے سسکتی اکثریت ہے اور دوسری طرف وہ سرمایہ دار اشرافیہ ہے جو قانون، انصاف اور صحت کی بہترین سہولیات کو اپنی دولت کے بل بوتے پر خرید لیتی ہے۔ معاشی نظام کوئی بھی ہو،چاہے اشتراکیت ہو یا سرمایہ داری وہ ہمیشہ غریب کی مجبوری کا سودا کرتا ہے۔انسان نے باہر کی دنیا بدلنے کے لیے بہت سے معاشی اور سیاسی نظام سوشلزم، کیپیٹلزم اور ڈیموکریسی آزمائے مگر ہر نظام انسان کے ابدی لالچ کے آگے ہار گیا۔ نجات کا راستہ کسی بیرونی نظام یا حکومت کو بدلنے میں نہیں بلکہ رومی فلسفی سینیکا اور تصوف کے اس سنہری اصول میں ہے کہ امیر وہ نہیں جس کے پاس سب سے زیادہ ہے بلکہ وہ ہے جو سب سے کم کا محتاج ہے۔ جب تک انسان اپنی خواہشات کو محدود کر کے قناعت کو اپنا ہتھیار نہیں بناتا، وہ شیطان کے تھیٹر کا تماشائی بننے پر مجبور رہے گا۔ ماسکو کے اسٹیٹ ہسٹوریکل میوزیم کا یہ شوکیس دراصل ایک عالمی عدالت ہے جو بتا رہی ہے کہ صدیوں کے سفر کے بعد بھی انسان وہیں کھڑا ہے۔ مشینیں تو سمارٹ ہو گئیں مگر انسان اب بھی مادہ پرستی کا قیدی ہے۔ اگر نجات چاہیے تو اس ڈیجیٹل تھیٹر سے واک آٹ کرنا ہوگا جہاں شیطان اب بھی ہندسوں کی بارش کر رہا ہے ورنہ تاریخ کا شوکیس بدل جائے گا مگر لوگوں کے ضمیر کی قیمت وہی کرنسی کے چند سکے ہی رہے گی۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں